ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے آج کہا کہ کم از کم 200 خاندان جنھوں نے چار سال قبل اترپردیش کے مظفر نگر اور شاملی ضلعوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے بعد اپنے گھروں کو چھوڑ دیا تھا انھیں ان سے وعدہ کیا گيا معاوضہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے اور وہ بحالی کالونیوں میں گندے حالات میں رہ رہے ہیں۔

2013 کے تشدد میں کم از کم 60 افراد ہلاک اور50,000 سے زائد بے گھر ہوئے تھے۔ اپنے گاؤں سے بے گھر ہونے والے سینکڑوں خاندانوں کو 500,000 روپئے دینے سے منع کر دیا گیا ہے جس کا اترپردیش حکومت نے ‘بدترین طریقے سے متاثر’ ہونے والے گاؤں کے خاندانوں کو دینے کا وعدہ کیا تھا، جن کی وجوہات محررانہ غلطیوں اور بدعنوانی سے لے کر ‘خاندان’ کی متضاد تعریفات ہیں۔ بہت سے لوگ اب بنیادی سہولیات جیسے پینے کے پانی، صفائی اور بجلی تک مناسب رسائی کے بغیر بحالی کالونیوں میں رہتے ہیں۔

“ان خاندانوں کو 2013 کے تشدد کے دوران اپنے گھروں اور اپنی تمام ملکیتوں کو چھوڑنے کے لیے مجبور کیا گيا تھا۔ لیکن اترپردیش کی مسلسل حکومتیں ان میں ناکام رہی ہیں،” ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کی پروگرام ڈائریکٹر اسمتا بسو نے کہا۔

“ریاستی حکومت نے سب سے پہلے فسادات کے متاثرین کو اپنے گاؤں واپس جانے میں مدد کرنے کے لیے سیکورٹی فراہم نہ کر کے اور پھر مکمل اور مناسب تلافی فراہم کرنے سے انکار کر کے انھیں مایوس کیا ہے۔ جانے کے لیے کوئی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے، ان خاندانوں نے غیر سرکاری تنظیموں اور مذہبی اداروں کی مدد سے بحالی کالونیوں میں پناہ حاصل کی۔ لیکن اترپردیش حکومت نے دوبارہ بنیادی سہولیات فراہم نہ کر کے ان خاندانوں کو مایوس کیا ہے۔”

اگست 2016 اور اپریل 2017 کے درمیان، ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا اور افکار انڈیا فاؤنڈیشن، شاملی میں واقع ایک این جی او، نے 12 بحالی کالونیوں کا دورہ کیا، 65 خاندانوں سے ملاقات کی اور 200 خاندانوں کے دستاویزات کا تجزیہ کیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بہت سے ایسے خاندانوں سے بات کی جنھیں ان حکام نے معاوضہ دینے سے منع کر دیا جن کا دعوی تھا - اس کے برعکس ثبوت کے باوجود - کہ وہ ایک بڑے مشترکہ خاندان کا حصہ تھے جو پہلے ہی معاوضہ وصول کر چکے ہیں۔ ہندوستان کے بہت سے دوسرے حصوں کی طرح اترپردیش میں وہ گھرانے جو ایک ہی چھت کے نیچے رہتے ہیں ان کی علیحدہ یونٹ کے طور پر حدبندی کی جاتی ہے جو اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ آیا وہ الگ الگ باورچی خانہ استعمال کرتے ہيں یا نہیں۔ ہندوستان کی مردم شماری کے مطابق بھی گھرانے کی تعریف ہے “لوگوں کا ایک گروہ جو عام طور پر ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک مشترکہ باورچی خانہ سے کھانا کھاتے ہیں”۔ تاہم کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس علیحدہ باورچی خانہ ہونے کے باوجود بھی معاوضہ دینے سے منع کر دیا گیا اور اکثر کے پاس راشن کارڈ بھی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ان کے پتے ان کے رشتہ داروں کے پتے سے مختلف ہیں۔

“ہم نے بہت سے ایسے خاندانوں سے ملاقات کی ہے جنھیں معاوضہ دینے سے انکار کر دیا گیا کیونکہ ریاست نے بہت سے خاندانوں کو ایک مشترکہ خاندان ماننا شروع کر دیا تھا۔ افکار انڈیا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر اکرم اختر چودھری کا کہنا ہے کہ، “آپ مجھے بتائیں، کہ چار بھائی جنھوں نے اپنا زمین، اپنا گھر - ہر چيز جس کے وہ مالک تھے - چھوڑ دیا ہے اور جو شادی شدہ ہیں اور ان کے پاس بچے ہیں، ان سے 500,000 روپئے میں زندگی گزارنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟”

بحالی کالونیوں میں خاندانوں کی ایک بڑی اکثریت کو بنیادی خدمات تک رسائی حاصل نہيں ہے۔ ان بات کا اندازہ ہے کہ مظفر نگر میں تقریبا %82 کالونیوں اور شاملی میں %97 کالونیوں میں محفوظ اور صاف پینے کا پانی موجود نہیں ہے، جبکہ مظفر نگر میں %61 اور شاملی میں %70 کالونیوں میں آب نکاسی کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے محققین کی طرف سے دورہ کی جانے والی کالونیوں میں بہت سے خاندان غیر صحت بخش اور خطرناک حالات میں رہتے ہیں۔ بیت الخلاء، جن میں ہمیشہ مناسب آب نکاسی کا فقدان ہوتا ہے، اکثر تین یا چار گھرانوں کے ذریعہ شیئر کیے جاتے تھے۔

“ضلع مظفر نگر میں فساد کے متاثرین کے انصاف کی کمیٹی کے صدر محمد سلیم نے کہا کہ، “بہت سی کالونیوں میں جہاں فسادات کے متاثرین رہتے ہیں، وہاں پانی، بجلی یا مناسب بیت الخلاء کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔” “رات کے وقت عورتیں تنہا بیت الخلاء جانے سے گریز کرتی ہیں۔ وہ گروپ میں ایک ساتھ جاتی ہیں۔ یہاں بہت گندگی ہوتی ہے۔ یہاں مسلسل پانی جمع رہتا ہے اور مناسب آب نکاسی کی سہولت نہیں ہے۔ یہاں بہت سے مچھر رہتے ہیں۔ لوگ بہت بیمار ہوتے ہيں۔”

اسمتا بسو نے کہا کہ، “مظفر نگر تشدد کے ذریعہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو جامع تلافی فراہم کی جانی چاہئے، جس میں انھیں وعدہ کیا گيا معاوضہ اور ان کی زندگیوں کی تعمیر نو میں مدد کرنے کے لیے بحالی بھی شامل ہونی چاہئے”۔ “مرکزی حکومت کو داخلی طور پر بے گھر افراد کے حقوق کی حفاظت کے لیے ایک فریم ورک بھی تیار کرنا چاہئے۔”

ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے یہ مطالبہ کرنے کے لیے ایک عرضی شروع کی ہے کہ اترپردیش کے وزیر اعلی اس بات کو یقینی بنائیں کہ بحالی کالونیوں میں رہنے والے خاندان رہائش، پانی، صفائی اور صحت کی دیکھ بھال کی فوری مدد سمیت مناسب معاوضہ اور بحالی وصول کریں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے 74008-304-080 پر مس کال کریں کہ فسادات کے متاثرین کی آوازيں اترپردیش حکومت کے ذریعہ سنی جائیں۔